حدیث ترجمہ
ابو سعید بن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ (پہل کر کے) ضرر دینا اور نہ جواب میں ضرر دینا جائز ہے۔ (یہ حدیث حسن ہے اسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسند روایت کیا ہے).
تشریح مطالب
معاشرتی زندگی کااہم اصول
اس حدیث میں اسلام کی معاشرتی زندگی کے ایک اہم اصول کی طرف توجہ دلائی گئ ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ ذاتی مفاد کے لیے اور دنیاوی اغراض کے لیے کسی کو نقصان دینے سے اجتناب کیا جائے۔ اگر کسی نے پہل کر کے تمہیں تکلیف پہنچائ ہو تو بھی عفو درگذر سے کام لے کر اسے معاف کر دو۔ اگر لاضرر کا معنی نقصان اٹھانا لیا جائے تو پھر حدیث کا مفہوم یہ ہو گا کہ اگر کوئ خواہ مخواہ تمہیں نقصان دینے کے درپے ہو اور وبال جان بنا ہو تو اس کا فوری طور پر ازالہ کرو کیونکہ یہ بھی اسلامی زندگی کا اصول ہے کہ شر پسندوں کی حوصلہ افزائی نہ کرو۔ قرآن مجید کی سورت البقرہ آیت 194 میں ہے
ترجمہ
"اگر کسی نے تم پر زیاتی کی تو تم بھی اس پر اسی قدر زیادتی کرو جس قدر اس نے کی۔"
بیشک دوسروں کو معاف کرنا ایک پسندیدہ فعل ہے لیکن اسلام کسی سے مرعوب ہو کر زندگی گزارنے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ اس لیے قصاص یا بدلہ لینے کی اجازت دی گئ ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ البقرہ 179 میں ہے کہ " اے عقلمندو! قصاص میں تمہارے لیے زندگی کا سامان ہے۔"
اس حدیث سے یہ مفہوم بھی اخز ہوتا ہے کہ اگر کوئ دشمن اسلامی ملک سے چھیڑ چھاڑ کرے تو اس کا جواب سختی سے دینا چاہیے اور اسے شرارتوں سے باز رکھنے کے لیے قوت استعمال کرنی چاہیے کیونکہ لا ضرفی السلام اسلام میں کسی کو نقصان برداشت کرتے رہنا جائز نہیں۔
لاضرر یعنی انتقام کے طور پر کسی کو نقصان نہیں دینا چاہیے۔ اس سے یہ مفہوم اخز ہوتا ہے کہ اگر کوئ کسی کو اس کے جرم کی جائز سزا قانون کے ذریعے مل چکی ہو تو مزید انتقام لینے اور انفرادی طور پر ضرر پہنچانے کی اجازت نہیں۔ خلاصہ یہ کہ نہ خود تکلیف اٹھاؤ اور نہ ہی دوسروں کے لیے وبال جان بنو م، اسلام ہمیں اس اصول کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
Writer: Shoaib Kamboh