حلال، حرام اور مشتبہات
عن ابی عبداللہ النعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما قالا سمعت رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ان الحلال بین وان الحرام بین و ینھما امور مشتبہات لا یعلمھن کثیر من الناس فمن اتقے الشبھات فقد اسبرا لدینہ وعرضہ ومن وقع فی الشبھات وقعہ فی الحرام کالراعی یرعی ثول الحمی یو شک ان یرتع فیہ الا وان لکل ملک حمی وان حمی اللہ محارمہ الا وان فی الجسد مضغتا اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی امقلب۔(بخاری-مسلم)
-:ترجمہ
ابو عبداللہ بن بشیر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، انھوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا یقیناً حلال واضح ہے اور یقیناً حرام بھی واضح ہے اور دونوں کے درمیان کچھ باتیں مشتبہ ہیں کہ نہیں جانتے انھیں بہت سے لوگ تو جو شخص شبہات سے بچا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو سلامت رکھا اور جو شخص شبہات میں جا پڑا وہ بالآخر حرام میں پڑ گیا جیسے ایک چرواہا جو ممنوعہ چراگاہ کے آس پاس مویشی چراتا ہے قریب ہے کہ اس میں چرانے لگے آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور خبر دار اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور آگاہ رہو یقیناً جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے خبر دار! اور وہ دل ہی ہے (اسے امام بخاری-مسلم نے روایت کیا ہے)۔
حلال و حرام
حرام اور حلال شریعت اسلامیہ کی مشہور اصطلاحیں ہیں۔ اور حرام اشیاء وہ ہیں جن کے ممنوع ہونے پر قرآن و سنت میں ذکر موجود ہے جیسے شراب و جوابازی، چور ڈاکہ وغیرہ اور حلال چیزیں وہ ہیں جن کے جائز ہونے کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہو یا اس کے جائز ہونے پر کوئ دلیل قائم ہو جائے جیسے نکاح، طلاق اور دین کے دوسرے احکام وغیرہ۔
حدیث کے پہلے حصے میں اس بات کی وضاحت کی گئ ہے کہ حلال و حرام اکثر لوگوں کے علم میں ہوتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ ایسے امور ہوتے ہیں جن کے حرام اور حلال ہونے میں شبہ ہوتا ہے اور اکثر لوگ اسی شک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں کر گزرتے ہیں۔ آگے چل کر ایک وقت وہ بھی آجاتا ہے جبکہ انسان کا نفس امارہ اسے حرام کی سرحد میں لے جاتا ہے اور اس سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ جوا کھیلنا حرام ہے لیکن جواریوں کے ساتھ بیٹھنا، ان کے ساتھ دوستی یا جوئے کی محفلوں میں جانا وغیرہ ایسی چیزیں ہیں کہ اکثر لوگ ان کے بارے میں نہیں جانتے کہ حرام ہیں یا حلال۔ پس وہ حرام کی طرف انھی مشتبہ باتوں میں پڑنے کی وجہ سے چلے جاتے ہیں۔
شک و شبہ والی چیزوں سے بچنے کی تاکید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں جو شک و شبہ والی باتوں سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اس بارے میں کئ ارشادات میں وضاحت فرمائی
الاثم ماحات فی صدرک
ترجمہ:
گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے۔
دوسری حدیث میں فرمایا " جو چیز تجھے شک ڈالتی ہے اسے چھوڑ دے اور اس بیز کی طرف مائل ہو جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوبصورت مثال سے یہ بات واضح کی کہ کس طرح مشتبہ باتیں حرام کے لیے راستے ہموار کرتی ہیں فرمایا ایک چرواہا اپنا ریوڑ ممنوعہ چراگاہ کے قریب لے جاتا ہے اور چراتا ہے سس بھروسے سے پر کہ وہ جانوروں کو نگاہ رکھے ہوئے ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس سے تھوڑی سی کوتاہی ہو اور ریوڑ ممنوعہ علاقے میں جا پہنچے ۔ لہزا اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے قریب لے جانے والے اسباب سے بھی دور رہنا چاہیے تاکہ اس بات کا خدشہ ہی نہ رہے کہ ہمارا نفس تھوری سی بے احتیاطی کی وجہ سے ہمیں حرام میں مبتلا کر دے۔
دل کا بگاڑ پورے جسم کا بگاڑ
حدیث کے آخر میں دل کو درست کرنے کی طرف خاص توجہ مبزول کرائ گئ ہے۔ کیونکہ دل تمام خیالات کا مرکز ہے۔ اگر وہ درست ہے تو جسم کے تمام اعمال درست ہیں اور اگر اس میں خرابی ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ اس کو حدیث میں یوں بیان کیا ہے
ترجمہ
"کسی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل درست نہ ہو۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے
"اے اللہ میں آپ سے تندرست دل کا طالب ہوں"۔
قرآن مجید میں ہے کہ قیامت کے دن مال و اولاد کسی کام نہیں آئیں گے۔ ہاں وہی فائدے میں رہے گا جو قلب سلیم لے کر حاضر بارگاہ خداوندی ہوگا۔
Written By:Shoaib Kamboh