-->

Imam Malik-bin-Ans R.A Complete Biography in Urdu ‎امام ‏مالک ‏بن ‏انس ‏رحمتہ ‏اللہ ‏علیہ ‏

امام مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ


نام نسب
آپ کا اسم گرامی مالک بن انس اور کنیت ابو عبداللہ تھی۔ آپ کے القاب امام دارالہجرت اور شیخ الکل ہیں۔ آپ مدینہ منورہ میں 93 ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدین یمنی عرب تھے۔ آپ کی تربیت ایسے گھرانے میں ہوئ جو علم حدیث کا مرکز تھا۔ ان کے خاندان میں حدیث و سنت کا تزکرہ رہتا تھا۔ آپ کے دادا امام مالک بن ابی عامر تابعین میں سے بہت بڑے عالم تھے۔ 
حصول علم
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں مدینہ کا شہر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا گہوارہ اور فتاوی کا وطن تھا۔ صف اول کے اہل علم وحابہ رضی اللہ عنہ یہاں موجود تھے۔ وحابہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے شاگرد یہاں رہے یہاں تک کہ امام مالک کا زمانہ آیا۔ امام مالک نے سات سو اساتزہ سے تحصیل علم کیا جن میں 300 تابعین اور 400 تبع تابعین میں سے تھے اس طرح احادیث و فتاویٰ کا علمی ورثہ انھیں ملا۔ علم فقہ میں آپ کے استاد ربیع بن فرخ اور نافع رحمتہ اللہ علیہ مولوی عبداللہ بن عمر تھے۔ اس طرح آپ ایک عظیم محدث، نا مورفقیہ اور جلیل القدر مفتی کے طور پر مشہور ہو گئے حتی کہ ان کا فتوی ضرب المثل بن گیا۔
لا بفتی ومالک فی المدینہ
یعنی امام مالک کے ہوتے ہوئے کوئ دوسرا فتوی دینے کا مجاز نہیں۔
درس حدیث
آپ نے سترہ سال کی عمر میں ہی درس حدیث دینا شروع کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حدیث کا ںے حد احترام کرتے جب تدریس حدیث کے لئے بیٹھتے تو وضو کرتے، خوشبو لگاتے اور صاف ستھرا لباس پہنتے اور مسند درس پر باوقار رونق افروز ہوتے ۔ جب آپ رحمتہ اللہ علیہ سے اس کی وجہ پوچھی گئ تو فرمایا "میں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بجا لانا چاہتا ہوں۔"
آپ رحمتہ اللہ علیہ بڑے شوق، انہماک اور عجزوانکساری سے درس دیتے یہاں تک کہ پہلو بھی نہ بدلتے۔ ایک مرتبہ حدیث پڑھا رہے تھے۔ اس دوران بچھو نے سولہ مرتبہ ڈسا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا رنگ زرد پڑ گیا مگر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے درس کا سلسلہ جاری رکھا۔ استفسار پر فرمایا "میں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی بنا پر صبر سے کام لیا۔"
آخر 86 سال کی عمر میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے 179 ہجری کو مدینہ منورہ میں وفات پائ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی قبر مدینہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں مرجع خلائق ہے۔ ایک شاعر نے اس موقع پر اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کیا ہے۔"
فخر الائمتہ مالک نعم الامام مالک
مولدہ نجم ھدی وفاتہ فاز مالک
یعنی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اماموں کے لئے سرمایہ افتخار اور بہترین پیشوا ہیں ان کی پیدائش ہدایت کا ستارہ ہے۔
خدمات حدیث
امام مالک بیک وقت محدث بھی تھے اور فقیہ بھی۔ محدثین میں آپ امام المحدثین مشہور تھے آپ کی مشہور سند حدیث مالک عن نافع عن ابن عمر  محدثین کے ہاں سونے کی کڑی سلسلتہ الزہب کہلاتی ہے۔ آپ کی جمع کردہ مجموعہ احادیث "موطا امام مالک" کے نام سے مشہور ہے۔ جو فن حدیث پر سب سے پہلی کتاب ہے۔ یہ کتاب ابواب فقہ کی ترتیب پا تالیف کی گئ ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ کے قول کے مطابق "کتاب اللہ کے بعد روئے زمین پر اس سے زیادہ صحیح کتاب کوئ اور نہیں۔" مؤطا کی تدوین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کی ہدایت پر ہوئ۔ اس کتاب میں 1720 احادیث ہیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سال کی محنت شاقہ سے اسے مرتب کیا۔ امام مالک کی پروقار مجلس درس میں تین عباسی خلفاء ہارون الرشید اور اس کے بیٹے امین اور مامون بحیثیت شاگرد حاضر ہوئے اور ان سے مؤطا پڑھی۔ ہارون کا خیال تھا کہ تمام ممالک اسلامیہ مؤطا کو بطور قانون مملکت نافز کر دیا جائے لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی بے نفسی اور دور اندیشی سے ایسا نہ ہوسکا۔
حق گوئ اور ابتلاء
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے آل علی رضی اللہ عنہ کے ایک بزرگ محمد بن عبداللہ کی بیعت کا فتویٰ دیا جو بڑی جرأت اور بہادری کی بات تھی۔ اس کی پاداش میں عباسی خلیفہ منصور نے گورنر مدینہ کے ذریعے ستر کوڑے لگوائے۔ مشکیں اس شدت سے کیں کہ ہاتھ بازو سے علیحدہ ہوگیا اونٹ پر اہانت و تشہیر کے لئے سوار کروایا لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بلند آواز سے اہنا تعارف کرواتے۔
"لوگو! جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ جان لے میں ابوعامر مالک بن انس ہوں ۔ میرا مسلک یہ ہے کہ طلاق مکروہ یا جبری طلاق کوئ چیز نہیں" جب گورنر مدینہ تک بات پہنچی تو اس نے آپ کو اونٹ سے اتارنے کا حکم دیا۔ ایک مجلس شوریٰ بن چکی تھی۔ جس میں تابعین کے جید علماء فقہاء کے فیصلے موجود تھے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی فقہ کی بنیاد اسی "فقہ مدینہ" پر رکھی۔
علمی مقام
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی علمی فضلیت اور مقام کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن اساتزہ سے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے استفادہ کیا وہ بعد میں آپ کے تلامزہ میں شمار ہونے لگے۔ امام زہری رحمتہ اللہ علیہ آپ کے استاد تھے اس کے باوجود انھوں نے امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے احادیث روایت کیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی عظمت شان کے لئے یہی بات کافی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ و شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ بقول امام شافعی رحمہ اللہ نے تابعین کے بعد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بندوں کے لیے سب سے بڑی حجت ہیں"  نیز امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فقہ و حدیث کے امام اور عقل و ادب میں کامل ہیں۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
"امام مالک متعدد کمالات میں منفرد تھے اول طویل عمر رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ سند، دوم روشن، ذہن اور وسعت علم سوم ان کی روایات پر آئمہ کا اتفاق چہارم تقوی، تدوین اور اتباع سںت اور آخری فقہ وافتاء میں تقدیم۔"
اجتہاد اور فتوی کا طریقہ
امام مالک اپنے اجتہاد میں قرآن مجید کے بعد احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتماد کرتے ہیں جس حدیث کی سند کو صحیح سمجھتے ہیں اسی سے مسائل کا استنباط کرتے ہیں خواہ وہ خبر واحد ہی کیوں نہ ہو۔ اگر قرآن و حدیث سے مسئلہ حل نہ ہو تو ان اقوال صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جنہیں وہ مستند یا ثقہ سمجھتے ہیں۔ نص کی عدم موجودگی میں قیاس کے ذریعے اجتہاد کرتے ہیں اور کبھی کبھار مصالح مرسلہ کے اصول کے ذریعے اجتہاد کرتے ہیں۔"
خدمات اور فقہ ملکی کی خصوصیات
اجتہاد پر انحصار کم کرنا
اس فقہ میں اجتہاد کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ اس کا زیادہ تر مدار کتاب و سنت اور آثار صحابہ و تابعین پر ہے۔
تقدیری مسائل کے بارے میں سکونت
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ایسے واقعات و معاملات کے بارے میں فتویٰ دینے سے احتراز فرماتے تھے جو پیش نہ آئے ہوں۔ آپ فرمایا کرتے تھے " جو واقعہ پیش آئے اس کے بارے میں سوال کرو اور جو معاملہ پیش نہ آئے اس کے بارے میں کچھ نہ دریافت کرو 
فقہ مدینہ کی اہمیت
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پہلے حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور حکومت مدینہ میں ایک مجلس شوریٰ بن بکی تھی۔ جس میں تابعین کے جید علماء و فقہاء کے فیصلے موجود تھے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی فقہ کی بنیادہی اسی "فقہ مدینہ" پر رکھی۔
فقہ مالکی کے پیروکار اہل الحدیث کہلائے
اس فقہ کے پیروکار اہل الحدیث کہلائے جب کہ حنفی فقہ کے اہل الرائے کہلائے۔
کتاب و سنت اور اجماع و قیاس بھی اس فقہ میں موجود ہے۔
فقہ مالکی میں ترمیم و اضافہ میں کمی
مالکی فقہ میں آگے چل کر بہت کم ترمیم و اضافہ اور اصلاح و تنقیح ہوئ۔ اس فقہ میں تصنیف و تالیف کا وہ چرچا نہیں رہا جو حنفی و شافعی میں رہا۔
خواص میں مقبولیت
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں اور مستفید ہونے والوں میں جس رتبے کے لوگ ہیں اس پائے کے محدث و فقیہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوتے مثلاً امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ۔ شاید اسی لیے ملکی فقہ کو "خواص کی فقہ" کا نام دیا جاتا ہے۔
Previous Post
Next Post

This is Muhammad Shoaib Irshad Advocate from Tehsil Bhalwal District Sargodha. I have an LL.B Hons from the University of Sargodha in 2022. My main focus is to spread knowledge and awareness by writing articles on different current affairs topics.

Related Posts